ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں مائناریٹی کمیشن چیرمین نے کہا: ریاستی حکومت سے کیا گیا ہے اقلیتی بہبود کے لئے 5000 کروڑ روپے کا مطالبہ

بھٹکل میں مائناریٹی کمیشن چیرمین نے کہا: ریاستی حکومت سے کیا گیا ہے اقلیتی بہبود کے لئے 5000 کروڑ روپے کا مطالبہ

Wed, 29 Nov 2023 21:17:51    S.O. News Service

بھٹکل 29 / نومبر (ایس او نیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم نے اپنے بھٹکل دورے کے موقع پراخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی فلاح و بہبود کے لئے ریاستی حکومت سے 5000 کروڑ روپے فنڈ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ امسال بجٹ میں اقلیتی فنڈ کے طور پر محض 2,100 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کافی نہیں ہے ۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کو آئندہ بجٹ میں کم از کم 5 ہزار کروڑ روپے دئے جائیں تاکہ  اقلیتی سماج کے 75 فی صد افراد تک سرکاری امدادی اسکیموں کا فائدہ پہنچایا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیموں سے استفادہ کے لئے درخواستیں طلب کرتے ہی ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور محض 30 تا 40 افراد کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کو بہت ہی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اس لئے ہم نے ریاستی حکومت کو تجویز بھیجی ہے کہ موبائل کے ذریعے آن لائن درخواستیں دینے کی گنجائش نکالی جائے۔

اقلیتوں کے خود امدادی اداروں کو فراہم کیا جانے والی چھوٹا قرضہ اسکیم جو بند کی گئی ہے اسے دوبارہ شروع  کرنے کا مطالبہ حکومت سے کیا گیا ہے ۔ اس اسکیم سے استفادہ کے لئے زیادہ تعداد میں درخواستیں موصول ہونے پر قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرنے کی ہدایت ضلع ڈپٹی کمشنروں کو دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شادی بھاگیہ اسکیم دوبارہ جاری کرنے اور ریجلیس اینڈومنٹ ڈپارٹمنٹ سے ہندووں کو 'سپتپدی' اسکیم سے اقلیتیوں کو بھی 50 ہزار روپے امداد فراہم کرنے کے علاوہ انجینئرنگ اور میڈیکل طلبہ کے لئے دستیاب 'اریو' وظیفہ اسکیم میں پیرا میڈیکل، نرسنگ، ہوٹل مینجمنٹ کورسس کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے.

بھٹکل آنے سے قبل موصوف نے اُڈپی کے نیجارمیں اُس مکان کا بھی دورہ کیا جہاں ایک ہی خاندان کے چار لوگوں کا وحشیانہ قتل ہوا تھا، یہاں خاندان کے ہیڈ جناب نورمحمد اور اُن کے بیٹے سمیت دیگر رشتہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے تعزیتی کلمات پیش کئے۔

اُڈپی  ضلع پنچایت ہال میں چیرمین عبدالعظیم نے کہا کہ اڈپی ضلع میں گزشتہ تین برس میں ایک مرتبہ بھی اقلیتی امور سے متعلق میٹنگ منعقد نہ ہونے کی بات سامنے آئی ہے اور ہر چھ مہینے میں ایک مرتبہ میٹنگ منعقد کرنے کی تجویز موصول ہوئی ہے ۔ یہ بات ضلع ڈپٹی کمشنر کے علم میں لائی جائے گی ۔ دس مسجدوں کی طرف سے قبرستان کی جگہ فراہم کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ قبرستان کے لئے سرکاری زمین نہ ہونے پر نجی ملکیت والی زمین خریدنے کی گنجائش ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر کوئی بھی زمین فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔  لہٰذا میرا مشورہ ہے کہ تین گرام پنچایت والے ایک ساتھ مل کر کسی ایک جگہ کی سرکاری زمین کی نشاندہی کریں اور اسے قبرستان کے لئے استعمال کریں۔ 

ریاستی مینارٹی کمیشن کے چیرمین جناب عبدالعظیم صاحب نے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کا بھی دورہ کیا اورعمائدین قوم سے بھی گفتگو کرتے ہوئے اُن سے بھی حال احوال دریافت کرتے ہوئے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔

اُڈپی میں ان کے ساتھ اسپیشل آفیسرمجیب اللہ جعفری، سید فضل الرحمن، اُڈپی ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے صدر عبدالمطلب، سابق صدر یحییٰ ناخوا، مائناریٹی ڈپارٹمنٹ آفیسر پورنیما چُوری اور دیگر افسران و معززین موجود تھے۔ بھٹکل میں ان کے ساتھ تعلقہ اقلیتی ڈپارٹمنٹ آفسر شمس الدین اور ڈسٹرکٹ آفسرایف یو فوجیر سمیت مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے صدرعنایت اللہ شاہ بندری و دیگر حضرات بھی موجود تھے۔

 


Share: